کل رات پاکستان کے اینٹرٹینمنٹ چینلز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کچھ ہی دیر میں خون کھولنے لگا اور میں نے بلاساختا فون اٹھایا۔ عادتاً دل کیا کے سوشل میڈیا پےجلی کٹی سناؤں اور دل کی بہڑاس نکالوں۔ لیکن کہیں سے، پہلی بار عقل نے ساتھ دیا ، اور میں نے ارادہ ترک کر دیا۔

بڑی دیر میں بیٹھا سوچتا رہا کے میں ہوتا کون ہوں ایک قوم کی اکثریت کی سوچ کو غلط کہنے والا؟ اگر پاکستان کی اکثریت یہی دیکھنا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے۔ ہاں میڈیا کے نہایت اہم کردار پے بہث ہو سکتی ہے، اور اس پے تنقید ہمارا حق ہی نہیں، زمِداری بہی ہے۔

لیکن جہاں تک بات ہے دوسروں کو بدلنے کی ہے، یہ محض ہماری انا (ایگو) کا فطور ہے۔ ہم ہوتے کون ہیں کسی کو بدلنے والے؟ خصوصاً پورے معاشرے کو بدلنے والے۔ ہم تو اس لائق بھی نہیں کے اپنی اولاد کو بدل لیں۔ ہمارے بس میں صرف اتنا ہے کے ہم خود کو بدل لیں۔ اور خود کو ہی ہم بدلنا نہیں چاہتے۔

دراصل ہم جانتے ہیں کے سارا فساد ہماری ہی وجہ سے ہے، لیکن ہماری انا یہ اعتراف نہیں کر سکتی، اور اس لئے وہ ہمیں دنیا کو سدھارنے کے کام میں الجہاے رکھتی ہے۔

جو شخص دنیا کا ہر قانون توڑتا ہے وہ ہی دوسروں کو ایمان کا درس دیتا رہتا ہے۔ کاروبار میں دو نمبری کے چیمپین دوسروں کے وظو کا طریقہ جانچتے رہتے ہیں۔ جنہوں نے کبھی ٹیکس نہ دیا ہو، وہ حکمرانوں کو چور کہتے کہتے ہلکان نہیں ہوتے۔ غرض یہ کے ہر بے ایمان کو یہ غم کھاے جاتا ہے کے لوگ کتنے بے ایمان ہیں۔

یہ سوچ کے “میں بہتر جانتا ہوں”، فساد کی اصل جڑ ہے۔ اگر واقعی دنیا کو بہتر بنانا ہے تو خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ بہتری کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجاے بہتری کی مثال بننا ہو گا۔ دوسروں کو بہتری کا درس دینے کے بجاے بہتر بن کے دکھانا ہو گا۔

اگر میں یہ چاہتا ہوں کے میری آنے والی نسلیں بہتر ماحول میں پلیں بڑہیں، تو مجھے خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ اگر میں چاہتا ہوں کہ وہ بہتر زندگی جیئں، تو مجہے ان کو بہتر انسان بنانا ہو گا۔

دنیا بدلنی ہے تو خد کو بدلو۔ ہر مزہب، ہر دانا بس یہی سکھاتا ہے۔

تبدیلی خود سے شروع ہوتی ہے، اور خود پے ہی ختم ہوتی ہے۔

Subscribe To Our Newsletter

Subscribe To Our Newsletter

Join our mailing list to receive the latest news and updates from Faisal Qureshi.

You have Successfully Subscribed!