پاکستان میں تبدیلی کیسے آے گی؟
September 9, 2018

جو شخص دنیا کا ہر قانون توڑتا ہے وہ ہی دوسروں کو ایمان کا درس دیتا رہتا ہے

کل رات پاکستان کے اینٹرٹینمنٹ چینلز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کچھ ہی دیر میں خون کھولنے لگا اور میں نے بلاساختا فون اٹھایا۔ عادتاً دل کیا کے سوشل میڈیا پےجلی کٹی سناؤں اور دل کی بہڑاس نکالوں۔ لیکن کہیں سے، پہلی بار عقل نے ساتھ دیا ، اور میں نے ارادہ ترک کر دیا۔

میں بہت دیر بیٹھا یہ سوچتا رہا کے میں ہوتا کون ہوں ایک قوم کی اکثریت کی سوچ کو غلط کہنے والا؟ اگر پاکستان کی اکثریت یہی دیکھنا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے۔ ہاں 'میڈیا' کے نہایت اہم کردار پر بہث ہو سکتی ہے، اور اس پر تنقید ہمارا حق ہی نہیں، زمِداری بھی ہے۔

لیکن جہاں تک بات دوسروں کو بدلنے کی ہے، یہ محض ہماری انا (ایگو) کا فطور ہے۔ ہم ہوتے کون ہیں کسی کو بدلنے والے؟ خصوصاً پورے معاشرے کو بدلنے والے۔ ہم تو اس لائق بھی نہیں کے اپنی اولاد کو بدل لیں۔ ہمارے بس میں صرف اتنا ہے کے ہم خود کو بدل لیں۔ اور خود کو ہی ہم بدلنا نہیں چاہتے۔

دراصل ہم جانتے ہیں کے سارا فساد ہماری ہی وجہ سے ہے، لیکن ہماری انا یہ اعتراف نہیں کر سکتی، اور اس لئے وہ ہمیں دنیا کو سدھارنے کے کام میں الجہاے رکھتی ہے۔

جو شخص دنیا کا ہر قانون توڑتا ہے وہ ہی دوسروں کو ایمان کا درس دیتا رہتا ہے۔ کاروبار میں دو نمبری کے چیمپین دوسروں کے وظو کا طریقہ جانچتے رہتے ہیں۔ جنہوں نے کبھی ٹیکس نہ دیا ہو، وہ حکمرانوں کو چور کہتے کہتے ہلکان نہیں ہوتے۔ غرض یہ کے ہر بے ایمان کو یہ غم کھاے جاتا ہے کے لوگ کتنے بے ایمان ہیں۔

یہ سوچ کے “میں بہتر جانتا ہوں”، فساد کی اصل جڑ ہے۔ اگر واقعی دنیا کو بہتر بنانا ہے تو خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ بہتری کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجاے بہتری کی مثال بننا ہو گا۔ دوسروں کو بہتری کا درس دینے کے بجاے بہتر بن کے دکھانا ہو گا۔

اگر میں یہ چاہتا ہوں کے میری آنے والی نسلیں بہتر ماحول میں پلیں بڑہیں، تو مجھے خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ اگر میں چاہتا ہوں کہ وہ بہتر زندگی جیئں، تو مجہے ان کو بہتر انسان بنانا ہو گا۔

دنیا بدلنی ہے تو خد کو بدلو۔ ہر مزہب، ہر دانا بس یہی سکھاتا ہے۔

تبدیلی خود سے شروع ہوتی ہے، اور خود پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔


keyboard_returnSee Other Posts In This Section